ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نئی تعلیمی پالیسی پر کمیٹی 31 مارچ تک رپورٹ پیش کرے گی: ستیہ پال سنگھ

نئی تعلیمی پالیسی پر کمیٹی 31 مارچ تک رپورٹ پیش کرے گی: ستیہ پال سنگھ

Sun, 04 Feb 2018 19:53:34    S.O. News Service

نئی دہلی،4فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مرکزی حکومت نئی تعلیمی پالیسی پر کام کر رہی ہے اور اس موضوع پر قائم ایڈوائزری کمیٹی 31 مارچ تک رپورٹ سونپ دے گی۔ مرکزی وزیر ستیہ پال سنگھ نے یہ معلومات دی۔فروغ انسانی وسائل کے وزیر مملکت نے بتایا کہ رپورٹ سونپے جانے کے بعد اس پر وزارت میں بات چیت کریں گے اور پھر کمیٹی کی سفارشات کو کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا۔ایک خاص بات چیت میں ستیہ پال سنگھ نے کہا کہ موجودہ تعلیمی نظام نوآبادیاتی سوچ کی عکاس ہے، نئی پالیسی کو تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے کیاگیا تاکہ اسے بدلتے وقت کے مطابق کیاجاسکے۔انہوں نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی میں تیزی سے بحث ہوئی ہے اور یہ حتمی مرحلے میں ہے اور کمیٹی کو 31 مارچ کو رپورٹ جمع کردی جائے گی۔سنگھ نے زور دیا کہ ملک کی نئی تعلیمی پالیسی علاقائی عدم مساوات کو ختم کرے گی اور تعلیم کی بازارو شکل کو ختم کیاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی میں تعلیم کو قابل رسائی، سستی اور لوگوں کی پہنچ کے دائرے میں لانے پر زور دیا جائے گا، تاکہ ملک میں زیادہ سے زیادہ انجینئر، سائنس داں، ڈاکٹر پیدا کئے جا سکیں۔ اس کے لئے عالمی سطح پر تعلیمی نظام تیار کیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی، 2017، مشہور خلائی سائنسدان اور پدم وبھوشن ڈاکٹر کے کستوریرنگن کی صدارت میں 9 رکنی کمیٹی کاقیام کیاگیا ہے، پہلے اس کمیٹی کی رپورٹ دسمبر 2017 میں آنے والی تھی۔مرکزی وزیر نے کہا کہ بجٹ میں اسکول کی سے اعلی سطح تک تعلیم کی کیفیت کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ پہلی بار تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لئے ان چار سالوں میں ایک لاکھ کروڑ روپے خرچ کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی میں ابتدائی سطح پر تعلیم کے معیار کو بہتربنامے، اعلی تعلیم کے اخراجات کو برداشت کرنے کے لئے اتفاق اور زیادہ تر لوگوں تک تعلیم کی رسائی کو یقینی بنانے جیسے مسائل کو رکھا گیا ہے۔سنگھ نے کہا کہ مہارت کی ترقی ایک اہم علاقہ ہے جہاں حکومت نے زور دیا ہے۔فروغ انسانی وسائل کے وزیرمملکت نے کہا کہ ہندوستان میں صرف 25.6 فیصدلوگوں کی اعلی تعلیم تک پہنچ ہے جبکہ امریکہ میں یہ 86 فیصد، جرمنی میں 80 فیصد اور چین میں 60 فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سے بڑھ کر 30 فیصد سے زائد اضافہ کیا ہے۔سنگھ نے کہا کہ ہم نے قانون میں ترمیم کی ہے اور اساتذہ کوٹریننگ کا راستہ دیا ہے اور 2019 کے اساتذہ کوٹریننگ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت بین الاقوامی معیاروں کے مطابق اعلی تعلیمی اداروں کی ترقی پر زور دے رہی ہے۔ اس مقصد کے لئے، 20 عالمی یونیورسٹیوں کو قائم کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھایاجا رہاہے۔


Share: